Tuesday, 28 April 2015

Aye Raat Na Dhalna

اے رات نہ ڈھلنا کہ اجڑ جائے گی زینب

بھائی سے دم صبح بچھڑ جائے گی زینب

سونے دے سکینہ کو کہ پھر سو نہ سکے گی
رونہ بھی جو چاہے گی تو پھر رو نہ سکے گی
اصغر سے ملاقات تو پھر ہو سکے نہ گی

گھبرائے ہوئے لعل ہیں ، سہمی ہوئی مائیں
جی بھر کے میں دے لوں علی اکبر کو دعائیں
لینا ہے ابھی عون و محمد کی بلائیں

ہائے چاند سے بچوں کی ابھی پیاس ہے باقی
کچھ آنکھ میں حسرت ہے ، کچھ آس ہے باقی
لیکن میرا بھائی میرا عباس ہے باقی

باقی ہے ابھی آل محمد کا سفینہ
بیٹی کے سلانے کو ہے شبیر کا سینہ
جھولا علی اصغر کا جھلاتی ہے سکینہ

کل کون سنے گا میری یہ آہ و بقا بھی
ہو گا تہہ خنجر میرے بھائی کا گلہ بھی
خیمہ تو کجا سر پہ نہ ہو گی یہ ردا بھی

اے رات گھڑی بھر کو تو رہنے دے سکوں میں
گھر جائیں گے ناصر میرے اعدا کی سفوں میں
یہ چاند سے چہرے تو نہا جائیں گے خوں میں


No comments:

Post a Comment